وہ ہاتھ ہاتھوں میں تھام کر مسکرا رہا ہوں

وہ ہاتھ ہاتھوں میں تھام کر مسکرا رہا ہوں
میں اپنے ہونے کی ساری خوشیاں منا رہا ہوں
ابھی اسے خواب جیسی نعمت نہیں دکھائی
ابھی تو میں اس کو صرف دنیا دکھا رہا ہوں
مرے مقدر کا رزق اس تک پہنچ رہا ہے
میں اپنے ہاتھوں سے اس کو کھانا کھلا رہا ہوں
مجھ ایسے بندے کے ساتھ رہنے میں فائیدہ ہے
میں شاہ رگ کے قریب بستی بسا رہا ہوں
مجھے یقیں ہے وہ میری جانب سفر کرے گا
مجھے یقیں ہے میں سیدھا رستہ بنا رہا ہوں
میں سر اٹھا کے خدا کے چہرے کو دیکھتا تھا
سو میری گردن اکڑ گئی تھی جھکا رہا ہوں
ابھی مرا دھیان منزلوں کی طرف نہیں ہے
سفر میں ہوں اور قدم قدم سے ملا رہا ہوں