یہ لوگ اس لیے مجھ کو گلے لگا رہے ہیں
کوئی پرانی خوشی ہے جو اب منا رہے ہیں
خوشی سے جھوم رہے ہیں مزے میں گا رہے ہیں
تمام لوگ درختوں کو یاد آ رہے ہیں
ابھی تو رقص کا آغاز بھی نہیں ہوا ہے
ابھی ملنگ قدم سے قدم ملا رہے ہیں
اسی لیے بھی دکھاتے ہیں روز خواب اسے
ہم اس کی آنکھ میں دنیا نئی بنا رہے ہیں
طلوعِ صبح سے پہلے اذانِ فجر کے بعد
جو سو رہے ہیں پرندے انہیں جگا رہے ہیں
تمہارے واسطے قبروں پہ حاضری ہے مگر
ندیم سائیں ہمیں رفتگاں بلا رہے ہیں
کوئی پرانی خوشی ہے جو اب منا رہے ہیں
خوشی سے جھوم رہے ہیں مزے میں گا رہے ہیں
تمام لوگ درختوں کو یاد آ رہے ہیں
ابھی تو رقص کا آغاز بھی نہیں ہوا ہے
ابھی ملنگ قدم سے قدم ملا رہے ہیں
اسی لیے بھی دکھاتے ہیں روز خواب اسے
ہم اس کی آنکھ میں دنیا نئی بنا رہے ہیں
طلوعِ صبح سے پہلے اذانِ فجر کے بعد
جو سو رہے ہیں پرندے انہیں جگا رہے ہیں
تمہارے واسطے قبروں پہ حاضری ہے مگر
ندیم سائیں ہمیں رفتگاں بلا رہے ہیں

