زمین کی خود نمائیوں میں الجھ چکا ہوں
میں اپنے اندر کی کھائیوں میں الجھ چکا ہوں
مجھے زیادہ ڈرا دیا ہے معاشرے نے
کچھ اس لیے بھی کمائیوں میں الجھ چکا ہوں
تمام بکھری ہوئی کتابوں سے معذرت ہے
میں سیڑھیوں کی صفائیوں میں الجھ چکا ہوں
حضور مجھ کو تو عشق کرنا تھا سیدھا سادہ
میں کیرئیر اور پڑھائیوں میں الجھ چکا ہوں
وصال کی واؤ پڑھ رہا ہوں قریب آ کر
مقدروں کی جدائیوں میں الجھ چکا ہوں
اب اس لیے بھی دکھائی دیتا نہیں کہیں پر
میں بھائیوں کی لڑائیوں میں الجھ چکا ہوں
میں اپنے اندر کی کھائیوں میں الجھ چکا ہوں
مجھے زیادہ ڈرا دیا ہے معاشرے نے
کچھ اس لیے بھی کمائیوں میں الجھ چکا ہوں
تمام بکھری ہوئی کتابوں سے معذرت ہے
میں سیڑھیوں کی صفائیوں میں الجھ چکا ہوں
حضور مجھ کو تو عشق کرنا تھا سیدھا سادہ
میں کیرئیر اور پڑھائیوں میں الجھ چکا ہوں
وصال کی واؤ پڑھ رہا ہوں قریب آ کر
مقدروں کی جدائیوں میں الجھ چکا ہوں
اب اس لیے بھی دکھائی دیتا نہیں کہیں پر
میں بھائیوں کی لڑائیوں میں الجھ چکا ہوں

