آتما تھک چکی ہے

بہت تھک چکا ہوں
یہی خود کو لکھنا اذیت کا سہنا
محبت کی نظمیں مکمل نہ ہونی
ہوا کا کوئی بھید مجھ پر نہ کھُلنا
وہی جھیل اور جھیل کا اِک کنارا
وہی نامکمل کہانی بھُلائے نہ بھولے
وہ قصہ ہمارا
وہی چند پتھر ۔۔۔لرزتے ہوئے عکس
وہی جھیل کا رقص
وہی کیفیت بور ہونے لگا ہوں
بہت تھک چکا ہوں
بدن میں تھکاوٹ نہیں پر مِری آتما تھک چکی ہے
مسافت بھی جیسے بہت بڑھ چکی ہے
تذبذب ہے سکتہ ہے سانسوں کی لے ٹوٹتی جا رہی ہے
کوئی ساتھ ہے چھوٹتا جا رہا ہے
مِرے ہاتھ پائوں بھی شل ہو رہے ہیں
میں پانی میں اب ڈوبتا جا رہا ہوں
بہت تھک چکا ہوں