درد بھری

درد بھری نے آنسو پونچھے
کائنات کی ساری رونے والی آنکھیں
درد بھرے رومال میں اتریں
کائنات رومال میں سمٹی
درد بھری نے کائنات کے ماتھے پرجب آنسو رکھے
بارش برسی
سات روز تک بارش برسی
گھاس اگی اور پہلا سانس بنا
درد بھری نے درد بھرا وہ سانس پیا
اور عشق جیا

درد بھری نے ہولی کھیلی
اور بہار کا موسم اترا
پون پیا کی بانہوں جیسی
دھوپ بھری رنگوں کی جب پچکاری ماری
برفیلے نخریلے پربت
پانی بن بن بن میں اترے
رنگ پیا کے من میں اترے
سارے رنگ فضا میں بکھرے
شاخوں میں پھولوں نے آنکھیں کھولیں
رنگ چنے اور اوڑھ لیے
اونٹوں والوں نے بھی رستے موڑ لیے
دور دیس سے آئی سہیلی
درد بھری نے ہولی کھیلی

درد بھری تعویز لے آئی
پی کی آنکھ میں بھانے والا
قدموں میں محبوب کو لے کر آنے والا
سینے اندر چیخنے والا
من کی دنیا جیتنے والا
ہار جیت کا کھیل نہیں ہے
حسن کا کوئی میل نہیں ہے
گورے رنگ کا پی شیدائی
درد بھری تعویز لے آئی

درد بھری نے بیاہ رچایا
شیش ناگ نے پھن لہرایا
درد بھری نے کوکھ اساری
درد بھری کے قد سے اونچا
شیش ناگ نے پھن لہرایا
منکا من سے ہوتا ہوا جب کوکھ میں اترا
ناگ بنا
درد بھری نے ناگ جنا
اور دودھ پلایا
درد بھری نے بیاہ رچایا

درد بھری نے عمر بتائی
لمحہ لمحہ چرخے کے چکر میں چکرایا
پونی پونی سانس گزاری
دھاگہ دھاگہ رشتہ جوڑا
پریم رس نس نس میں نچوڑا
پیر پیر آنگن کو دیکھا
اینٹ اینٹ دیواریں گھوریں
پلک پلک دروازہ ناپا آس لگائی
درد بھری نے عمر بتائی

درد بھری نے موت کو چکھا
قبر میں ایک فرشتہ آیا
درد بھری نے شربت پی کر
ٹیک لگائی آنکھیں موندیں
اور خوابوں میں خود کو گھاس پہ چلتے پایا
درد بھری نے موت کو چکھا
قبر میں ایک فرشتہ آیا