ڈھول بجنے لگا

ڈھول بجنے لگا رقص ہونے لگا
روح جھڑنے لگی
زندگی کی تھکاوٹ اُترنے لگی

کرئہ ارض پر جشن کا ہے سماں
اس قدر شور ہے الاماں‘الاماں
کس کو معلوم ہے تم کہاں‘ میں کہاں
کون سے سَم پہ کس نے توقف کیا
پھر نہیں اٹھ سکا
کس کے کاندھوں کے سورج اُترنے لگے
کس کی زلفوں کے تارے بکھرنے لگے
کس کے ماتھے پہ تقدیر کا خوف ہے
کس کے پیروں میں صدیوں بھرا ضعف ہے
کس کو گٹھڑی میں باندھی ہوئی زندگی بوجھ لگنے لگی
کس کو معلوم ہے کون ہے جانتا
ڈھول بجنے لگا رقص ہونے لگا
زندگی کی تھکاوٹ اُترنے لگی
ڈھول ہے یا کہ تاریخ ہے کرہ اَرض کی
تال ہے یا محبت کا انجام ہے
رقص ہے یا تمہارا مرا نام ہے