سہیلیوں نے کہا
دور فلسفے کا نہیں
دلوں میں بات نہیں صرف خون ہوتا ہے
وہی تو میں نے کہا
بات ساری خون کی ہے
بدن میں کوئی بھی تحریک دل سے ہوتی ہے
اصیل لوگوں کی تصدیق دل سے ہوتی ہے
سہیلیوں نے کہا
عشق وشق کچھ بھی نہیں
تمام کھیل بدن کا ہے اور ہوس کا ہے
وہی تو میں نے کہا
کھیل سب بدن کے ہیں
کسی جمال کو جسموں میں ہم اتارتے ہیں
پھر اس کو دیکھ کے اک وہم کو پکارتے ہیں
سہیلیوں نے کہا
اب کرامتیں کیسی
کسی مزار پہ دھاگوں کا کوئی کام نہیں
وہی تو میں نے کہا
دھاگے واگے کچھ بھی نہیں
دراصل ہم کوئی پیمان باندھتے ہیں وہاں
کرامتیں نہیں ایمان باندھتے ہیں وہاں
سہیلیوں نے کہا
خواب سوچ ہوتے ہیں
یہ خواہشوں سے ابھرتے ہیں اور کچھ بھی نہیں
وہی تو میں نے
سوچ خواب ہوتے ہیں
ہمارا ہونا بھی دراصل خواب جیسا ہے
ہمارا ہجر تو کیا وصل خواب جیسا ہے
دور فلسفے کا نہیں
دلوں میں بات نہیں صرف خون ہوتا ہے
وہی تو میں نے کہا
بات ساری خون کی ہے
بدن میں کوئی بھی تحریک دل سے ہوتی ہے
اصیل لوگوں کی تصدیق دل سے ہوتی ہے
سہیلیوں نے کہا
عشق وشق کچھ بھی نہیں
تمام کھیل بدن کا ہے اور ہوس کا ہے
وہی تو میں نے کہا
کھیل سب بدن کے ہیں
کسی جمال کو جسموں میں ہم اتارتے ہیں
پھر اس کو دیکھ کے اک وہم کو پکارتے ہیں
سہیلیوں نے کہا
اب کرامتیں کیسی
کسی مزار پہ دھاگوں کا کوئی کام نہیں
وہی تو میں نے کہا
دھاگے واگے کچھ بھی نہیں
دراصل ہم کوئی پیمان باندھتے ہیں وہاں
کرامتیں نہیں ایمان باندھتے ہیں وہاں
سہیلیوں نے کہا
خواب سوچ ہوتے ہیں
یہ خواہشوں سے ابھرتے ہیں اور کچھ بھی نہیں
وہی تو میں نے
سوچ خواب ہوتے ہیں
ہمارا ہونا بھی دراصل خواب جیسا ہے
ہمارا ہجر تو کیا وصل خواب جیسا ہے

