فرض
تم ساز بجاتے رہنا
یہ کشتی ڈوب بھی جائے تو
یہ عرشہ ٹوٹ بھی جائے تو
افراتفری کا عالم ہو
ہر سمت ہی موت نظر آئے
عرشے سے لاشے گِرتے رہیں
اور لوگ مسلسل مرتے رہیں
تم موت سے مت گھبرانا
یہ فرض نبھاتے رہنا
تم ساز بجاتے رہنا
دکھ اندر سے کھا جائیں تمہیں
تم میں سے اگر کچھ سازندے
سردی سے ٹھٹھر کر مر جائیں
تم چہرے پر مسکان لیے
اس برف کے ٹھنڈے تودے پر
جو خوشیوں کے سُر تان میں ہو
وہ راگ سناتے رہنا
تم ساز بجاتے رہنا
تم ساز بجاتے رہنا
یہ کشتی ڈوب بھی جائے تو
یہ عرشہ ٹوٹ بھی جائے تو
افراتفری کا عالم ہو
ہر سمت ہی موت نظر آئے
عرشے سے لاشے گِرتے رہیں
اور لوگ مسلسل مرتے رہیں
تم موت سے مت گھبرانا
یہ فرض نبھاتے رہنا
تم ساز بجاتے رہنا
دکھ اندر سے کھا جائیں تمہیں
تم میں سے اگر کچھ سازندے
سردی سے ٹھٹھر کر مر جائیں
تم چہرے پر مسکان لیے
اس برف کے ٹھنڈے تودے پر
جو خوشیوں کے سُر تان میں ہو
وہ راگ سناتے رہنا
تم ساز بجاتے رہنا

