فصیلِ عشق کی بنیاد سے آواز آئی

خیالِ یار کی انگلی کسی معصوم جذبے نے پکڑ لی ہے
فصیلِ عشق کی بنیاد سے آواز یہ آئی
کہ بابا ضد نہیں کرتے
محبت ایسی آوارہ مسافت سے نہیں ملتی
قبیلے چھوٹ جاتے ہیں
ہم ایسے لوگ تو دراصل چاہت کے کھلونے ہیں
جو اکثر ٹوٹ جاتے ہیں
محبت کے شبستاں میں رہائش کیسے ممکن ہو
کہ ہم محنتِ کشِ اہلِ وفا اکثر
کسی زندان کی دیوار میں چنوائے جاتے ہیں
کبھی صحراؤں سے نکلیں بھی تو پتھر کے پھولوں سے
بدن مہکائے جاتے ہیں
کسی روٹھے ہوئے کو ہم منائیں تو زیادہ روٹھ جاتا ہے
محبت ایسا دھاگہ ہے
جسے ہم کس کے باندھیں بھی تو اکثر ٹوٹ جاتا ہے
فصیلِ عشق کی بنیاد سے آواز آئی
عشق تیشہ اور سر کا درمیانی فاصلہ ہے
جس کو طے کرنے لگیں تو عمر بھر چلنا بھی کم ہے
اور تھک جائیں تو اک لمحہ بھی کافی ہے