کبھی تم سامنے آؤ

ہمیشہ خواب بن کر خواہشوں کی آنکھ میں تم گم ہی رہتے ہو
لرزتے سائے کی صورت ہمیشہ دسترس سے دور رہتے ہو
کبھی تم سامنے آؤ
تمہیں وہ خوف دکھلاؤں
کہ جو خوابوں کے اکثر ٹوٹ جانے پر
کسی کی مردہ آنکھوں سے ٹپکتا ہے
بدن کے چاک پر
خواہش کی مٹی سے کھلونے کیسے بنتے ہیں
اداسی قد سے بڑھ جائے
تو پستی کا بہت احساس ہوتا ہے
کہ جیسے سامنے کوئی نہیں ہوتا
مگر پھر بھی ہمیشہ پاس ہوتا ہے
کوئی بھی بات جو ہوتی نہیں
وہ کس قدر تکلیف دیتی ہے
کہ جیسے مصرعہ جاں پر گرہ لگتی نہیں
تو ذہنِ شاعر وجد کے موسم بناتا ہے
مرا وجدان تم کو دیکھ کر ہی وجد میں آتا ہے
تو کوئی مکمل شعر ہوتا ہے
کبھی تم سامنے آؤ
کہ میری چند غزلیں اور نظمیں نامکمل ہیں
تمہیں کھونے کے ڈر سے
اب تمہیں پانے کی خواہش بھی نہیں دل میں
مگر پھر بھی
کبھی تم سامنے آؤ