حمد
بسم اللہ پریم کا نام ہے اور پریم ہوا آغاز
ہر صورت جس میں حُسن ہے ، ہر نام کہ جس میں راز
وہ نام کہ جس ترتیب میں اک صورت چھپی ہوئی
اس صورت نقش نقوش میں ہر نعمت چھپی ہوئی
گر جاپو نام الاپ ہے گر دیکھو تو گُر روپ
گُر مرشد ہادی پریم کا گُر گُر کا ہے بہروپ
ہم کھوئے پاک جمال میں ہم مست ہوئے مستور
ہم سمجھے رمز حضور کی ہم ناچے پیش حضور
آنکھوں میں اس کا بھید ہے دیدار ہے اس کا عشق
ہونٹوں پر اس کی بات ہے اظہار ہے اس کا عشق
وہ قاتل ہم مقتول ہیں تلوار ہے اس کا عشق
ہم کنبہ اور مخلوق ہیں سردار ہے اس کا عشق
وہ پھینکے جلتی آگ میں پھر آگ کرے گلزار
وہ آپ بنائے کھیلنے اور آپ کرے مسمار
زنجیر بنائے پریم کی اور باندھے اپنے یار
گونگے کو بخشے بولنا اور اندھے کو دیدار
وہ چاہے برکت بخش دے اور شعر بھی ہو مقبول
وہ چاہے نکتہ کھول دے وہ چاہے بات میں طول
مرشد
میں کملی اپنے یار کی میں ہوش سے بے گانی
اک حسن ہے ہر دم سامنے میں جس کی مستانی
ہر شان بنی اس واسطے ہر نام اسی کا ہے
وہ پاپ جلی کے واسطے مجھ پاپ جلی کا ہے
میں ناچوں تڑپوں پریم میں اور پھینکوں دور حجاب
میں ایسی ماہی سائیاں جو چھوڑ چکی ہے آب
میں شرم حیا سے دور ہوں اور عشق مرا بے باک
لج پال سخی لج پال جی میرا سینہ کر دیں چاک
مرے ماتھے میں بغداد ہے اور سینے میں ہے جھنگ
مرا جوبن عین بہار ہے اور مجھ پر سارے رنگ
میں دن جیسی بے داغ ہوں اور چنری میری رات
میں مست ہوئی مستور میں اور بھول چکی اوقات
مرے سچے سائیں سوہنیا مری انگلی ٹوٹ گئی
مرا چاند کہیں پر کھو گیا مری تتلی روٹھ گئی
مرا وجد وجود میں آگیا وجدان نے شعر کہے
مرا درد درود میں ڈھل گیا ایمان نے شعر کہے
مرا ماتھا روشن ہوگیا ترے پاؤں پہ جب رکھا
میں پورا میٹھا ہوگیا ترے ہاتھ کو جب چکھا
تجھ حسن پہ سب قربان ہیں کیا غوث قطب ابدال
تجھ لہجے کا ہی دان ہیں مرے شعر مرے اقوال
میں شعر شعور کا روگ ہوں میں دھرتی کا ہوں سوگ
میں بوٹی ہندوستان کی مرا عشق ہے تیرا جوگ
میں ہند کی مٹی سائیاں تو عشق کا دریا ہے
مری رگ رگ تیرے بیٹ ہیں تو مجھ میں بہتا ہے
سلطان بھلے سلطان جی تم صحرا کے سلطان
تم تھل کے روشن چاند ہو اور روہی کے پردھان
تم جیتے بازی پریم کی ہر جیت تمہاری ہے
یہ روہی کی جو ہار ہے اک جٹی ہاری ہے
سلطان بھلے سلطان جی میں نازک اور کمزور
سب ہار سنگھار کو بھول کے میں بھاگی تیری اور
میں بھاگی تجھ کو دیکھ کے مرے پاؤں آئی موچ
اک پتھر سے ٹکرا گئی اور ٹوٹ گئی ہر سوچ
سلطان علی سلطان جی فریاد سنو فریاد
ہر سوتن تعنے مارتی مری آپ کرو امداد
دلدار سخی دلدار جی مرے پورے چاہ کرو
تصویر بناؤ اسم کی اور اپنے رنگ بھرو
ہم لوگ
ہم لوگ برہمن پریم کے اک مومن اپنا یار
ہم بدھا برگد بھوگتے ہم کعبے کے معمار
ہم پریم نگر کی خاک ہیں اور پانی زم زم کا
ہم طور پہ جلتی آگ ہیں اور بہکی تیز ہوا
ہم چاکر پاک رسولﷺ کے صدیق عمر عثمان
ہم نوکر حسن حسین کے ہم مولا پر قربان
ہم عین حقیقت دیکھتے ہم پہلے پہلے چار
ہم الا اللہ کا راز ہیں ہم دنیا کے سردار
ہم رام کا روپ سروپ ہیں نانک جی کی دستار
ہم اپنے درشن آپ ہیں ہم اپنے پہرے دار
ہم دوست ہیں جبرائیل کے اقبال ہمارا یار
ہم فقر فنا کا بھید ہیں ہم ریشم ہم تلوار
ہم کن سنتے ہی ہوگئے سنتے تھے یعنی تھے
ہم مست الست کے روز کے بس اُس کو دیکھ رہے
ہم مست ازل کے مست ہیں ہر شجرے کا آغاز
ہم کلمہ روزہ آپ ہیں ہم حج زکوت نماز
ہم ہونی کا اسباب ہیں اور جیون کا دستور
ہم جیتے گردن تان کے اور کہلاتے مغرور
ہم نفی بھی ہیں اثبات بھی ہم پتھر بھی اور خاک
ہم پاکوں میں ناپاک ہیں اور ناپاکوں میں پاک
ہم بولیں جو بھی بول دیں وہ خود ہونے لگ جائے
سورج کی تابش خاک ہو اور چاند کھڑا شرمائے
ہم سینے سے بغداد ہیں اور چہرے سے لاھوت
ہم آنکھیں ہیں ھاھوت کی اور دیکھ رہے ناسوت
ہم لاکھ کروڑ میں ایک ہیں اور ایک کے جان نثار
ہم تین سو تیرہ مست ہیں ہم دشمن پر تلوار
ہم پاپی خاکی خاک ہیں ہم نار بھی ہیں اور نور
ہم بوجھ اٹھائیں پریم کا ہم خلقت کے مزدور
ہم سنتے دیکھتے سونگھتے ہم چکھتے چھوتے لوگ
ہم راز ہیں اپنے راز کا اور جوگی کا ہیں جوگ
ہم ظالم اپنے نفس پر مظلوم کی طاقت ہیں
ہم باغی دنیا دار ہیں دنیا پر حجت ہیں
بغداد ہمارا جھنگ ہے بے داغ ہمارا رنگ
وہ یار ہمارے ساتھ ہے ہم جس کے سات ملنگ
ہم چشت بہشت کے میزباں ہم پاک پتن کا گُڑ
ہم سارنگی کے تار ہیں ہم طبلے کا ہیں پُڑ
ہم تہمت کھاتے پریم کی اور پیتے شوق شراب
ہم بازی کھیلیں عشق کی اور ہاریں اپنے خواب
ہم باغی باغ بہشت کے ہم دھرتی کے ہیں پیڑ
ہم سوئیں پریم کی آگ پر اور ناچیں ماس ادھیڑ
ہم اندر جنگل بار ہیں ہم اندر ہیں بازار
ہم کنجری بن کے ناچتے جوں رکھے سوہنا یار
ہم مٹی ماریں جسم کی اور پائیں دشت کی ریت
ہم گندم بوئیں پریم کی اور کاٹیں ہجر کے کھیت
ہم سجدے میں سج دھج گئے اور ڈٹ کے کیا قیام
ہم ہند کے اتھرے جاٹ ہیں آقاﷺ کے خاص غلام
ہم بھیرو ٹھاٹھ کے راگ ہیں ہم صبح کا مست الاپ
ہم لوگ کبوتر عشق کے اور ھو ھو ہر دم جاپ
ہم مٹی کے بازار میں ڈھونڈیں ہیرے اور لعل
ہم گائیں ہجر کی راگنی اور کھیلیں دھول دھمال
ہم شعر کہیں تجھ حسن پر اور گائیں درد ہزار
جب بھڑکے آتش عشق کی تو جلیں دوانہ وار
ہم پیر وراق کی گود میں کھیلے اور ہوئے جوان
ہم قادر کے ہیں قادری ہم باھو کے سلطان
سلطان بہادر شاہ کی اصغر سائیں پہچان
ہم شور نگر کی خاک ہیں اور کوٹ مٹھن کا دان
ہم خادم بھی مخدوم بھی ہم جٹ بھی اور سادات
ہم جاگیں تو دن جاگتا ہم سوئیں تو سوئے رات
ہم چلتے پیر گھسیٹ کے ہم شین کو بولیں سین
ہم لوگ مسافر عشق کے ہم خاطر مرشد دین
ہم دم دم سائیں جاپتے اور دھم دھم کریں دھمال
ہم مستقبل میں بیٹھ کر ماضی میں رکھیں حال
ہم اپنے آپ کا راز ہیں ہم فطرت کے اسرار
ہم لوگ سنہرے گندمی ہم داتا کے اوتار
وہ غائب غیب کے راز میں ہم حاضر اور حضور
وہ چھپا ہوا ھاھوت میں ہم دنیا میں مشہور
ہم خادم اپنے پیر کے ہم کہلائیں سلطان
یہ جلوے کوئی اور ہیں تم سمجھے ہو انسان
بسم اللہ پریم کا نام ہے اور پریم ہوا آغاز
ہر صورت جس میں حُسن ہے ، ہر نام کہ جس میں راز
وہ نام کہ جس ترتیب میں اک صورت چھپی ہوئی
اس صورت نقش نقوش میں ہر نعمت چھپی ہوئی
گر جاپو نام الاپ ہے گر دیکھو تو گُر روپ
گُر مرشد ہادی پریم کا گُر گُر کا ہے بہروپ
ہم کھوئے پاک جمال میں ہم مست ہوئے مستور
ہم سمجھے رمز حضور کی ہم ناچے پیش حضور
آنکھوں میں اس کا بھید ہے دیدار ہے اس کا عشق
ہونٹوں پر اس کی بات ہے اظہار ہے اس کا عشق
وہ قاتل ہم مقتول ہیں تلوار ہے اس کا عشق
ہم کنبہ اور مخلوق ہیں سردار ہے اس کا عشق
وہ پھینکے جلتی آگ میں پھر آگ کرے گلزار
وہ آپ بنائے کھیلنے اور آپ کرے مسمار
زنجیر بنائے پریم کی اور باندھے اپنے یار
گونگے کو بخشے بولنا اور اندھے کو دیدار
وہ چاہے برکت بخش دے اور شعر بھی ہو مقبول
وہ چاہے نکتہ کھول دے وہ چاہے بات میں طول
مرشد
میں کملی اپنے یار کی میں ہوش سے بے گانی
اک حسن ہے ہر دم سامنے میں جس کی مستانی
ہر شان بنی اس واسطے ہر نام اسی کا ہے
وہ پاپ جلی کے واسطے مجھ پاپ جلی کا ہے
میں ناچوں تڑپوں پریم میں اور پھینکوں دور حجاب
میں ایسی ماہی سائیاں جو چھوڑ چکی ہے آب
میں شرم حیا سے دور ہوں اور عشق مرا بے باک
لج پال سخی لج پال جی میرا سینہ کر دیں چاک
مرے ماتھے میں بغداد ہے اور سینے میں ہے جھنگ
مرا جوبن عین بہار ہے اور مجھ پر سارے رنگ
میں دن جیسی بے داغ ہوں اور چنری میری رات
میں مست ہوئی مستور میں اور بھول چکی اوقات
مرے سچے سائیں سوہنیا مری انگلی ٹوٹ گئی
مرا چاند کہیں پر کھو گیا مری تتلی روٹھ گئی
مرا وجد وجود میں آگیا وجدان نے شعر کہے
مرا درد درود میں ڈھل گیا ایمان نے شعر کہے
مرا ماتھا روشن ہوگیا ترے پاؤں پہ جب رکھا
میں پورا میٹھا ہوگیا ترے ہاتھ کو جب چکھا
تجھ حسن پہ سب قربان ہیں کیا غوث قطب ابدال
تجھ لہجے کا ہی دان ہیں مرے شعر مرے اقوال
میں شعر شعور کا روگ ہوں میں دھرتی کا ہوں سوگ
میں بوٹی ہندوستان کی مرا عشق ہے تیرا جوگ
میں ہند کی مٹی سائیاں تو عشق کا دریا ہے
مری رگ رگ تیرے بیٹ ہیں تو مجھ میں بہتا ہے
سلطان بھلے سلطان جی تم صحرا کے سلطان
تم تھل کے روشن چاند ہو اور روہی کے پردھان
تم جیتے بازی پریم کی ہر جیت تمہاری ہے
یہ روہی کی جو ہار ہے اک جٹی ہاری ہے
سلطان بھلے سلطان جی میں نازک اور کمزور
سب ہار سنگھار کو بھول کے میں بھاگی تیری اور
میں بھاگی تجھ کو دیکھ کے مرے پاؤں آئی موچ
اک پتھر سے ٹکرا گئی اور ٹوٹ گئی ہر سوچ
سلطان علی سلطان جی فریاد سنو فریاد
ہر سوتن تعنے مارتی مری آپ کرو امداد
دلدار سخی دلدار جی مرے پورے چاہ کرو
تصویر بناؤ اسم کی اور اپنے رنگ بھرو
ہم لوگ
ہم لوگ برہمن پریم کے اک مومن اپنا یار
ہم بدھا برگد بھوگتے ہم کعبے کے معمار
ہم پریم نگر کی خاک ہیں اور پانی زم زم کا
ہم طور پہ جلتی آگ ہیں اور بہکی تیز ہوا
ہم چاکر پاک رسولﷺ کے صدیق عمر عثمان
ہم نوکر حسن حسین کے ہم مولا پر قربان
ہم عین حقیقت دیکھتے ہم پہلے پہلے چار
ہم الا اللہ کا راز ہیں ہم دنیا کے سردار
ہم رام کا روپ سروپ ہیں نانک جی کی دستار
ہم اپنے درشن آپ ہیں ہم اپنے پہرے دار
ہم دوست ہیں جبرائیل کے اقبال ہمارا یار
ہم فقر فنا کا بھید ہیں ہم ریشم ہم تلوار
ہم کن سنتے ہی ہوگئے سنتے تھے یعنی تھے
ہم مست الست کے روز کے بس اُس کو دیکھ رہے
ہم مست ازل کے مست ہیں ہر شجرے کا آغاز
ہم کلمہ روزہ آپ ہیں ہم حج زکوت نماز
ہم ہونی کا اسباب ہیں اور جیون کا دستور
ہم جیتے گردن تان کے اور کہلاتے مغرور
ہم نفی بھی ہیں اثبات بھی ہم پتھر بھی اور خاک
ہم پاکوں میں ناپاک ہیں اور ناپاکوں میں پاک
ہم بولیں جو بھی بول دیں وہ خود ہونے لگ جائے
سورج کی تابش خاک ہو اور چاند کھڑا شرمائے
ہم سینے سے بغداد ہیں اور چہرے سے لاھوت
ہم آنکھیں ہیں ھاھوت کی اور دیکھ رہے ناسوت
ہم لاکھ کروڑ میں ایک ہیں اور ایک کے جان نثار
ہم تین سو تیرہ مست ہیں ہم دشمن پر تلوار
ہم پاپی خاکی خاک ہیں ہم نار بھی ہیں اور نور
ہم بوجھ اٹھائیں پریم کا ہم خلقت کے مزدور
ہم سنتے دیکھتے سونگھتے ہم چکھتے چھوتے لوگ
ہم راز ہیں اپنے راز کا اور جوگی کا ہیں جوگ
ہم ظالم اپنے نفس پر مظلوم کی طاقت ہیں
ہم باغی دنیا دار ہیں دنیا پر حجت ہیں
بغداد ہمارا جھنگ ہے بے داغ ہمارا رنگ
وہ یار ہمارے ساتھ ہے ہم جس کے سات ملنگ
ہم چشت بہشت کے میزباں ہم پاک پتن کا گُڑ
ہم سارنگی کے تار ہیں ہم طبلے کا ہیں پُڑ
ہم تہمت کھاتے پریم کی اور پیتے شوق شراب
ہم بازی کھیلیں عشق کی اور ہاریں اپنے خواب
ہم باغی باغ بہشت کے ہم دھرتی کے ہیں پیڑ
ہم سوئیں پریم کی آگ پر اور ناچیں ماس ادھیڑ
ہم اندر جنگل بار ہیں ہم اندر ہیں بازار
ہم کنجری بن کے ناچتے جوں رکھے سوہنا یار
ہم مٹی ماریں جسم کی اور پائیں دشت کی ریت
ہم گندم بوئیں پریم کی اور کاٹیں ہجر کے کھیت
ہم سجدے میں سج دھج گئے اور ڈٹ کے کیا قیام
ہم ہند کے اتھرے جاٹ ہیں آقاﷺ کے خاص غلام
ہم بھیرو ٹھاٹھ کے راگ ہیں ہم صبح کا مست الاپ
ہم لوگ کبوتر عشق کے اور ھو ھو ہر دم جاپ
ہم مٹی کے بازار میں ڈھونڈیں ہیرے اور لعل
ہم گائیں ہجر کی راگنی اور کھیلیں دھول دھمال
ہم شعر کہیں تجھ حسن پر اور گائیں درد ہزار
جب بھڑکے آتش عشق کی تو جلیں دوانہ وار
ہم پیر وراق کی گود میں کھیلے اور ہوئے جوان
ہم قادر کے ہیں قادری ہم باھو کے سلطان
سلطان بہادر شاہ کی اصغر سائیں پہچان
ہم شور نگر کی خاک ہیں اور کوٹ مٹھن کا دان
ہم خادم بھی مخدوم بھی ہم جٹ بھی اور سادات
ہم جاگیں تو دن جاگتا ہم سوئیں تو سوئے رات
ہم چلتے پیر گھسیٹ کے ہم شین کو بولیں سین
ہم لوگ مسافر عشق کے ہم خاطر مرشد دین
ہم دم دم سائیں جاپتے اور دھم دھم کریں دھمال
ہم مستقبل میں بیٹھ کر ماضی میں رکھیں حال
ہم اپنے آپ کا راز ہیں ہم فطرت کے اسرار
ہم لوگ سنہرے گندمی ہم داتا کے اوتار
وہ غائب غیب کے راز میں ہم حاضر اور حضور
وہ چھپا ہوا ھاھوت میں ہم دنیا میں مشہور
ہم خادم اپنے پیر کے ہم کہلائیں سلطان
یہ جلوے کوئی اور ہیں تم سمجھے ہو انسان

