حمد
بسم اللہ پریم کا نام ہے اور پریم ہوا آغاز
ہر صورت جس میں حُسن ہے ، ہر نام کہ جس میں راز
وہ نام کہ جس ترتیب میں اک صورت چھپی ہوئی
وہ صورت جس کے رنگ میں ہر نعمت چھپی ہوئی
وہ چاہے برکت ڈال دے اور شعر بھی ہو مقبول
وہ چاہے نکتہ کھول دے وہ چاہے بات میں طول
زنجیر بنائے پریم کی اور باندھے اپنے یار
گونگے کو بخشے بولنا اور اندھے کو دیدار
آنکھوں میں اس کا شوق ہے دیدار ہے اس کا عشق
ہونٹوں پر اس کی بات ہے اظہار ہے اس کا عشق
وہ قاتل ہم مقتول ہیں تلوار ہے اس کا عشق
ہم کنبہ ہیں مخلوق ہیں سردار ہے اس کا عشق
گر جاپو نام الاپ ہے گر دیکھو تو گُر روپ
گُر مرشد ہادی پریم کا گُر گُر کا ہے بہروپ
ہم کھوئے پاک جمال میں ہم مست ہوئے مستور
ہم سمجھے رمز حضور کی ہم ناچے پیش حضور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعت
رخ سیدھا رستہ عشق کا اور خوشبو رہبر ہے
لب لعل گہر یاقوت ہیں آواز مقدر ہے
من پاک پوتر نور ہے اور نور پہ نور غلاف
تن کعبہ ہر مخلوق کا جو دیکھے کرے طواف
الحمد الف اور میم ہے اور میم احد کا راز
اس میم سے ہی مخلوق ہے اس میم میں دم اور ساز
کن آپ کی اپنی بات ہے اور عبد مقام ہوا
تعلیم کریں اخلاق کو اور فقر اسلام ہوا
مخلوق نہیں مخلوق میں سب کھیل حجابی ہیں
بے عقلے عاقل ہوگئے بے دیدے حاجی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائیں حسین پاک کی بارگاہ میں
سردار بھلے سردار جی تم عشق صحیفہ ہو
تم راضی مرضی یار کے ہمیں اپنا جھوٹا دو
تم فخر ہو آقا پاک ﷺ کا تم فقر کی ہو پہچان
تم بی بی پاک کا نور ہو سلطانوں کے سلطان
تم مولا کی تلوار ہو اور نانا کی دستار
تم سائیں حسن کے لاڈلے دل والوں کے سردار
تم اسماعیل کا پریم ہو اور ابراہیم انداز
تم ہمت ہو عشاق کی اور الااللہ کا راز
تم پاک ازل سے پاک ہو اور کن سے پہلے نور
تم تھے جب کوئی تھا نہیں دو آنکھوں میں مستور
تم ساجد کے ہو دوش پر اور سجدہ ہوا طویل
تم عین وضاحت عشق کی اور حق کی صاف دلیل
تم گردن پر قربان ہم جہاں بوسے دیں سرکار
تم رحمت کی آغوش میں تم جنت کے سردار
تم مالک ہو مخدوم ہو ہم کیسے کہیں مظلوم
تم خلقت میں حق بانٹتے ہم کیسے کہیں محروم
تم ابرو جو تلوار ہیں ہم اس تلوار کی دھار
تم آنکھیں جو دستور ہیں ہم ان کے تابعدار
سردار بھلے سردار جی تم پر ہو درود سلام
تم خاص طریقت فقر کی تم اصل میں ہو اسلام
سردار بھلے سردار جی تم لج ہو اور لج پال
ہم منگتے ہیں سردار جی ہمیں بھر بھر دیجے تھال
بوجہل یزید سے پاک ہے یہ ہند تمہارا ہے
سردار بھلے سردار جی سب تم پر وارا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرشد
صاحب کا نشہ اور ہے کیا جانیں یہ مئے نوش
کیا لطف ہے دل کی بات میں سن پائیں کب خر گوش
ہر بات سے بات فضول ہے ہر سخن کہاں مقبول
ہر چپ میں پورا گیان ہے ہر خاموشی مشغول
یہ بات احد کی بات ہے گھونگھٹ ہے جس کا میم
بس ایک سے ایک سے ایک ہے کثرت میں ہے تقسیم
یہ مرشد پر ایمان ہے جو کہے کرائے دین
یہ اک صورت کا دھیان ہے اور نام دھرائے تین
اک جوگی میں ہم مست ہیں اک صورت پر ہے دھیان
اک عشق خرید شوق سے اور بیچ دیا ایمان
میں کملی اپنے یار کی میں ہوش سے بے گانی
اک حسن ہے ہر دم سامنے میں جس کی مستانی
ہر شان بنی اس واسطے ہر نام اسی کا ہے
وہ پاپ جلی کے واسطے مجھ پاپ جلی کا ہے
میں شرم حیا سے دور ہوں اور عشق مرا بے باک
لج پال سخی لج پال جی میرا سینہ ہوگیا چاک
میں ناچوں تڑپوں پریم میں اور پھینکوں دور حجاب
میں ایسی ماہی سائیاں جو چھوڑ چکی ہے آب
مرے ماتھے میں بغداد ہے اور سینے میں ہے جھنگ
مرا جوبن عین بہار ہے اور مجھ پر سارے رنگ
میں دن جیسی بے داغ ہوں اور چنری میری رات
میں مست ہوئی مستور میں اور بھول چکی اوقات
سلطان بھلے سلطان جی تم صحرا کے سلطان
تم تھل کے روشن چاند ہو اور روہی کے پردھان
تم جیتے بازی پریم کی ہر جیت تمہاری ہے
یہ روہی کی جو ہار ہے اک جٹی ہاری ہے
سلطان بھلے سلطان جی میں نازک اور کمزور
سب ہار سنگھار کو بھول کے میں بھاگی تیری اور
میں بھاگی تجھ کو دیکھ کے مرے پاؤں آئی موچ
اک پتھر سے ٹکرا گئی اور ٹوٹ گئی ہر سوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم
ہم لوگ برہمن پریم کے اک مومن اپنا یار
ہم بدھا برگد بھوگتے ہم کعبے کے معمار
ہم پریم نگر کی خاک ہیں اور پانی زم زم کا
ہم طور پہ جلتی آگ ہیں اور بہکی تیز ہوا
ہم نوکر حسن حسین کے ہم مولا پر قربان
ہم چاکر پاک رسولﷺ کے صدیق عمر عثمان
ہم عین حقیقت دیکھتے ہم پہلے پہلے چار
ہم الا اللہ کا راز ہیں ہم دنیا کے سردار
تورات انجیل زبور ہیں ہر سانس میں ہیں قرآن
ہر ایک صحیفہ پریم ہے اور پریم خدا کی شان
ہم عارف ہیں اک ذات کے جس ذات میں سارے بھید
ہم قاری صورت یار کے کیا جنتر منتر وید
ہم پیر وراق کی گود میں کھیلے اور ہوئے جوان
ہم قادر کے ہیں قادری ہم خان محمد خان
ہم باھوؒ کے ہیں لاڈلے اور ھو ھو ہر دم جاپ
ہم اپنے مالک آپ ہیں ہم اپنے خادم آپ
ہم سینے سے بغداد ہیں اور چہرے سے لاھوت
ہم آنکھیں ہیں ھاھوت کی اور دیکھ رہے ناسوت
ہم چشت بہشت کے میزباں ہم پاک پتن کا گُڑ
ہم سارنگی کے تار ہیں ہم طبلے کا ہیں پُڑ
بغداد ہمارا جھنگ ہے بے داغ ہمارا رنگ
وہ یار ہمارے ساتھ ہے ہم جس کے سات ملنگ
ہم اپنے درشن آپ ہیں ہم اپنے پہرے دار
ہم فقر فنا کا بھید ہیں ہم ریشم ہم تلوار
ہم دوست ہیں جبرائیل کے اقبال ہمارا یار
ہم رام کا روپ سروپ ہیں نانک جی کی دستار
ہم خادم بھی مخدوم بھی ہم جٹ بھی اور سادات
ہم جاگیں تو دن جاگتا ہم سوئیں تو سوئے رات
ہم مست ازل کے مست ہیں ہر شجرے کا آغاز
ہم کلمہ روزہ آپ ہیں ہم حج زکوت نماز
۔۔۔۔۔
ہم کن سنتے ہی ہوگئے سنتے تھے یعنی تھے
ہم مست الست کے روز کے بس اُس کو دیکھ رہے
ہم ہونی کے اسباب ہیں اور جیون کا دستور
ہم جیتے گردن تان کے اور کہلاتے مغرور
ہم نفی بھی ہیں اثبات بھی ہم پتھر بھی اور خاک
ہم پاکوں میں ناپاک ہیں اور ناپاکوں میں پاک
ہم لاکھ کروڑ میں ایک ہیں اور ایک کے جان نثار
ہم تین سو تیرہ مست ہیں ہم دشمن پر تلوار
ہم بولیں جو بھی بول دیں وہ خود ہونے لگ جائے
سورج کی تابش خاک ہو اور چاند کھڑا گھبرائے
ہم وصل کے روزہ دار ہیں اور ہجر بھرے صدمات
ہم دن میں دیکھیں چاندنی اور سورج دیکھیں رات
ہم باغی باغ بہشت کے ہم دھرتی کے ہیں پیڑ
ہم سوئیں پریم کی آگ پر اور ناچیں ماس ادھیڑ
ہم تہمت کھاتے پریم کی اور پیتے شوق شراب
ہم بازی کھیلیں عشق کی اور ہاریں اپنے خواب
ہم اندر جنگل بار ہیں ہم اندر ہیں بازار
ہم کنجری بن کے ناچتے جوں رکھے سوہنا یار
۔۔۔۔۔
ہم شعر کہیں تجھ حسن پر اور گائیں درد ہزار
جب بھڑکے آتش عشق کی تو جلیں دوانہ وار
اک جانب شاہ حسین ہے اک جانب بھگت کبیر
اک جانب بلھا گونجتا اور وارث گائے ہیر
ہم گائیں ہجر کی راگنی اور کھیلیں دھول دھمال
ہم مٹی کے بازار میں ڈھونڈیں ہیرے اور لعل
ہم بھیرو ٹھاٹھ کے راگ ہیں ہم صبح کا مست الاپ
ہم لوگ کبوتر عشق کے اور ھو ھو ہر دم جاپ
۔۔۔۔۔
ہم سجدے میں سج دھج گئے اور ڈٹ کے کیا قیام
ہم ہند کے اتھرے جاٹ ہیں آقاﷺ کے خاص غلام
ہم چلتے پیر گھسیٹ کے ہم شین کو بولیں سین
ہم لوگ مسافر عشق کے ہم خاطر مرشد دین
ہم اپنے آپ کا آپ ہیں ہم فطرت کے اسرار
ہم لوگ سنہرے گندمی ہم داتا کے اوتار
ہم سنتے دیکھتے سونگھتے ہم چکھتے چھوتے لوگ
ہم راز ہیں اپنے راز کا اور جوگی کا ہیں جوگ
ہم پاپی خاکی خاک ہم نار بھی ہیں اور نور
ہم بوجھ اٹھائیں پریم کا ہم خلقت کے مزدور
ہم مٹی ماریں جسم کی اور پائیں دشت کی ریت
ہم گندم بوئیں پریم کی اور کاٹیں ہجر کے کھیت
وہ غائب غیب کے راز میں ہم حاضر اور حضور
وہ چھپا ہوا لاھوت میں ہم دنیا میں مشہور
ہم خادم اپنے پیر کے ہم کہلائیں سلطان
یہ جلوے کوئی اور ہیں تم سمجھے ہو انسان
ہم لوگ بڑے بے خوف ہیں لو تھام ہمارے ہاتھ
لج پال ہمارے ساتھ ہیں ہم لج پالوں کے ساتھ
ہم ظالم اپنے نفس پر مظلوم کی طاقت ہیں
ہم باغی دنیا دار ہیں دنیا پر حجت ہیں
ہم دم دم سائیں جاپتے اور دھم دھم کریں دھمال
ہم مستقبل میں بیٹھ کر ماضی میں رکھیں حال
ہم باہر ہیں اس کھیل سے اور دیکھ رہے ہیں کھیل
ہم اندر سارا کھیل ہے ہم اندر سارا میل
ہم مر کر زندہ ہوچکے اب جیون دان کریں
اک محسن کے ہم بالکے سب پر احسان کریں
۔۔۔۔۔
ہم مشرق مغرب کے نہیں اب بھول چکے طرفین
ہم عین اور غین سے ماورا بس دیکھ رہے دو نین
ہم لوگ الف کی خامشی ہم آنکھ سے کرتے بات
ہم صفتوں سے منہ پھیر کے اب دیکھ رہے ہیں ذات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم
تم مکتب کے مجبور ہو ہم پڑھے پڑھائے لوگ
تم بھوگو اپنی بھوگنی ہم جانیں اپنے سوگ
تم سات کو گنتی جانتے ہم سات کو جانیں ساتھ
تم پانچ جدا کر دیکھتے ہم پانچ کو مانیں ہاتھ
تم اسود پتھر چومتے ہم چومیں یار کا مکھ
تم آگ جلاؤ پیٹ کی ہم تاپیں اپنے دکھ
تم آنکھوں والے لوگ ہو ہم خواب کے اندر خواب
ہم پاپی کوڑھی عشق کے تم نیکی اور ثواب
تم دیکھو اپنی نیکیاں ہم دیکھیں اپنے پاپ
ہم حجت اپنی آنکھ پر ہم دیکھیں اپنا آپ
تم اونچا اونچا بولتے اور بولو کڑوے بول
بس کان ہمارے کھا گئے تم پھٹے پرانے ڈھول
تم ملاں صوفی بن گئے اور صوفی غیر صفا
تم پیٹ کے مارے شیخ ہو اور بیچو نام خدا
تم ٹخنوں کو ننگا کیے حوروں کو بیچ رہے
تم جنت کے تھے لالچی سو موت حرام مرے
تم مکے کے مکار ہو اور طائف کے بے کار
ہم یثرب کے ایوب ہیں ہم حبشہ کے سردار
ہم لوگ ستارا وار ہیں ہم چاند کے صحبت دار
تم آگ کو پوجو خوف میں ہم آگ کریں گلزار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں
میں کمی اپنے یار کا میں کاہے کا درویش
نا کپڑے کالے رنگ کے نا لمبے میرے کیش
نا عالم فاضل شخص ہوں جو مفتی کہلاؤں
نا سمجھا دنیا داریاں جو تجھ کو سمجھاؤں
نا صاحب ، صاحب زاد ہوں نا کوئی گدی نشین
نا بیچ سکا میں یار کو نا بیچا مذہب دین
نا حاجی مکے شہر کا نا باندھ سکا احرام
نا نفل نماز کا نیتی نا کوئی پیش امام
نا جوگی جنگل بار کا نا چلے کا بے کار
نا پانچ نمازیں پڑھ سکا نا بھوکا روزے دار
نا نعرہ مارا حیدری نا نیکی اور نا پاپ
نا لگن نہ کوئی لاگ ہے نا اونچے اونچے جاپ
نا مست کہ مستی خاص ہو نا میرا کوئی روپ
نا نام کمایا جا سکا نا عشق مرا بہروپ
نا صورت ایسی خاص ہے جو مڑ مڑ دیکھیں لوگ
نا مالا پہنی کاٹھ کی نا بھاگ نہ کوئی بھوگ
نا سنی سنائی مانتا نا بولی اپنی بات
نا ہجر کمایا یار کا نا وصل کی پائی رات
نا شعر بنایا کام کا نا شاعر اور حکیم
بس دوست ہوں اپنے دوست کا اور پایا نام ندیم
اس نام میں حرفِ م ہے خم دار الف جیسا
سرکار الف جیسا میرا دل دار الف جیسا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھید
یہ چھپے ہوئے کی بات ہے سو چھپ چھپ کر کی جائے
یہ راز نیاز ہیں عشق کے بے سمجھا سمجھ نہ پائے
یہ علم نہیں تدریس ہو یہ بات نہ کوئی بول
یہ بار نہیں اوزان کا جو کرے ترازو تول
یہ کفر نہ کوئی کافری مسلم نہ کوئی اسلام
یہ چار کتابوں میں نہیں کیا ملاں پنڈت رام
اک تخت سجا ہے حسن کا اور عشق ہے تخت نشین
اک خواہش ہے پہچان کی پہچانے کوئی حسین
یہ دو نینوں کا دور ہے اور آئینے کا تخت
یہ ایک لطیف کی بات ہے اور ایک کثیف کا بخت
ھو ھو میں ھامستور ہے اور ھا کی آنکھیں عین
عاشق کو دید سے کام ہے اور عاشق نین کے نین
وہ غیب الغیب کا کنت ہے ھاھویت میں کنزاً
یاھوت سنہری نور ہے لاھوت میں مخفیاً
فاردت جو ملکوت ہے پہچان کی خواہش کا
جبروت جہاں عرفان ہے جو کھیل ہے کوشش کا
ناسوت میں خلقت خلق کی پہچان مکمل ہو
کانوں کو آنکھیں بخش دیں انسان مکمل ہو
۔۔۔۔۔
شفاف بدن کا ذکر ہے اور پاک نظر کا کھیل
یہ موت سے پہلے موت ہے یہ صاحب کا ہے میل
بے چہرہ ، چہرہ اوڑھ کے ہوا اپنا عاشق آپ
اور خاک نے بازی جیت لی جب پایا عشق کا تاپ
یہ تاپ بہت انمول ہے اس تاپ میں کل اسرار
اس تاپ میں ہی انکار ہیں اس تاپ میں ہی اقرار
یہ درد دھوئیں کا تاپ ہے جسے تاپیں خاص الخاص
یہ آگ سنہری آگ ہے اس آگ کا ایندھن آس
یہ ادب آداب کا کھیل ہے بے ادبے ہیں ناکام
یہ خاموشی ہے عشق ہے دل سے دل کو پیغام
یہ ساری من کی حاضری پھر کیا اونچی آواز
یہ مالا ہے اک سانس کی کیا لکڑی کیسا ساز
آواز اذان کی تھی نہیں چھپ کر تھا میل ملاپ
یہ خاص طریقت عشق کی جو دنیا سمجھے پاپ
یہ بات نہ کوئی فلسفہ جو عقل شعور میں آئے
گونگے نے گڑ تو کھا لیا اب کھا کر کیا بتلائے
وہ دیکھو وہ ہے سامنے گر دیکھ سکو تو آؤ
وہ بیٹھا ہنستا بولتا اور لہجے میں ٹھہراؤ
اس وہ کی رمز عجیب ہے یہ وہ جب ہووے ھو
یہ ب سے الف کا وصل ہے ھو ھو سے ھو باھو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقیر
مرے سچے سائیں سوہنیا مری انگلی ٹوٹ گئی
مرا چاند کہیں پر کھو گیا مری تتلی روٹھ گئی
مرا ماتھا روشن ہوگیا ترے پاؤں پہ جب رکھا
میں پورا میٹھا ہوگیا ترے ہاتھ کو جب چکھا
مرا وجد وجود میں آگیا وجدان نے شعر کہے
مرا درد درود میں ڈھل گیا ایمان نے شعر کہے
میں شعر شعور کا روگ ہوں میں دھرتی کا ہوں سوگ
مری بانہیں نظمیں ہجر کی مری سانسیں راگ بہار
مرا ماتھا مطلع صبح کا مرے ابرو ہیں اشعار
میں بوٹی ہندوستان کی مرا عشق ہے تیرا جوگ
میں دھرتی کا ہوں لاڈلا مرے لاڈ اٹھائیں یار
مری آنکھیں صورت یار کی مری پلک پلک دیدار
میں جوگی سادھو پریت کا مرے کان میں بالا ہے
میں اندھا تیرے پریم میں تو دیکھنے والا ہے
میں بولی ہوں پنجاب کی تو میرا ڈھولا ہے
میں لفظوں میں وہ لفظ ہوں جسے تونے بولا ہے
میں آنے والا دور ہوں مرا حال گواہی ہے
میں جنگل کی وہ آگ ہوں جو تو نے لگائی ہے
۔۔۔۔۔
میں سانپوں سے ہوں کھیلتا اور زہر کا ہوں تریاق
میں گندھا گندھایا پریم میں مرا لہجہ ہے بے باک
میں نغمہ پاک و ہند کا آواز مدینے کی
مری موت ہوئی ہے عشق میں میں صورت جینے کی
میں راگ ہوں تیرے روگ کا مجھے گائیں خسرو جی
میں رقص ہوں تیرے ہجر کا مجھے ناچیں سب چشتی
ہمہ اوست ہے میری راگنی اور ھو ھو میرا راگ
وحدت ہے میرا آئینہ اور کثرت میرا بھاگ
میں الف الف کا بھید ہوں میں میم کا بوسہ ہوں
مجھ لب پر عشق کا ذائقہ عشاق کا اپنا ہوں
میں کروں خلافت یار کی میں بھید کا پہرے دار
تو عقل کا بہکا شخص ہے تجھ پر کھلنا بے کار
۔۔۔۔۔
بسم اللہ پریم کا نام ہے اور پریم ہوا آغاز
ہر صورت جس میں حُسن ہے ، ہر نام کہ جس میں راز
وہ نام کہ جس ترتیب میں اک صورت چھپی ہوئی
وہ صورت جس کے رنگ میں ہر نعمت چھپی ہوئی
وہ چاہے برکت ڈال دے اور شعر بھی ہو مقبول
وہ چاہے نکتہ کھول دے وہ چاہے بات میں طول
زنجیر بنائے پریم کی اور باندھے اپنے یار
گونگے کو بخشے بولنا اور اندھے کو دیدار
آنکھوں میں اس کا شوق ہے دیدار ہے اس کا عشق
ہونٹوں پر اس کی بات ہے اظہار ہے اس کا عشق
وہ قاتل ہم مقتول ہیں تلوار ہے اس کا عشق
ہم کنبہ ہیں مخلوق ہیں سردار ہے اس کا عشق
گر جاپو نام الاپ ہے گر دیکھو تو گُر روپ
گُر مرشد ہادی پریم کا گُر گُر کا ہے بہروپ
ہم کھوئے پاک جمال میں ہم مست ہوئے مستور
ہم سمجھے رمز حضور کی ہم ناچے پیش حضور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعت
رخ سیدھا رستہ عشق کا اور خوشبو رہبر ہے
لب لعل گہر یاقوت ہیں آواز مقدر ہے
من پاک پوتر نور ہے اور نور پہ نور غلاف
تن کعبہ ہر مخلوق کا جو دیکھے کرے طواف
الحمد الف اور میم ہے اور میم احد کا راز
اس میم سے ہی مخلوق ہے اس میم میں دم اور ساز
کن آپ کی اپنی بات ہے اور عبد مقام ہوا
تعلیم کریں اخلاق کو اور فقر اسلام ہوا
مخلوق نہیں مخلوق میں سب کھیل حجابی ہیں
بے عقلے عاقل ہوگئے بے دیدے حاجی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائیں حسین پاک کی بارگاہ میں
سردار بھلے سردار جی تم عشق صحیفہ ہو
تم راضی مرضی یار کے ہمیں اپنا جھوٹا دو
تم فخر ہو آقا پاک ﷺ کا تم فقر کی ہو پہچان
تم بی بی پاک کا نور ہو سلطانوں کے سلطان
تم مولا کی تلوار ہو اور نانا کی دستار
تم سائیں حسن کے لاڈلے دل والوں کے سردار
تم اسماعیل کا پریم ہو اور ابراہیم انداز
تم ہمت ہو عشاق کی اور الااللہ کا راز
تم پاک ازل سے پاک ہو اور کن سے پہلے نور
تم تھے جب کوئی تھا نہیں دو آنکھوں میں مستور
تم ساجد کے ہو دوش پر اور سجدہ ہوا طویل
تم عین وضاحت عشق کی اور حق کی صاف دلیل
تم گردن پر قربان ہم جہاں بوسے دیں سرکار
تم رحمت کی آغوش میں تم جنت کے سردار
تم مالک ہو مخدوم ہو ہم کیسے کہیں مظلوم
تم خلقت میں حق بانٹتے ہم کیسے کہیں محروم
تم ابرو جو تلوار ہیں ہم اس تلوار کی دھار
تم آنکھیں جو دستور ہیں ہم ان کے تابعدار
سردار بھلے سردار جی تم پر ہو درود سلام
تم خاص طریقت فقر کی تم اصل میں ہو اسلام
سردار بھلے سردار جی تم لج ہو اور لج پال
ہم منگتے ہیں سردار جی ہمیں بھر بھر دیجے تھال
بوجہل یزید سے پاک ہے یہ ہند تمہارا ہے
سردار بھلے سردار جی سب تم پر وارا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرشد
صاحب کا نشہ اور ہے کیا جانیں یہ مئے نوش
کیا لطف ہے دل کی بات میں سن پائیں کب خر گوش
ہر بات سے بات فضول ہے ہر سخن کہاں مقبول
ہر چپ میں پورا گیان ہے ہر خاموشی مشغول
یہ بات احد کی بات ہے گھونگھٹ ہے جس کا میم
بس ایک سے ایک سے ایک ہے کثرت میں ہے تقسیم
یہ مرشد پر ایمان ہے جو کہے کرائے دین
یہ اک صورت کا دھیان ہے اور نام دھرائے تین
اک جوگی میں ہم مست ہیں اک صورت پر ہے دھیان
اک عشق خرید شوق سے اور بیچ دیا ایمان
میں کملی اپنے یار کی میں ہوش سے بے گانی
اک حسن ہے ہر دم سامنے میں جس کی مستانی
ہر شان بنی اس واسطے ہر نام اسی کا ہے
وہ پاپ جلی کے واسطے مجھ پاپ جلی کا ہے
میں شرم حیا سے دور ہوں اور عشق مرا بے باک
لج پال سخی لج پال جی میرا سینہ ہوگیا چاک
میں ناچوں تڑپوں پریم میں اور پھینکوں دور حجاب
میں ایسی ماہی سائیاں جو چھوڑ چکی ہے آب
مرے ماتھے میں بغداد ہے اور سینے میں ہے جھنگ
مرا جوبن عین بہار ہے اور مجھ پر سارے رنگ
میں دن جیسی بے داغ ہوں اور چنری میری رات
میں مست ہوئی مستور میں اور بھول چکی اوقات
سلطان بھلے سلطان جی تم صحرا کے سلطان
تم تھل کے روشن چاند ہو اور روہی کے پردھان
تم جیتے بازی پریم کی ہر جیت تمہاری ہے
یہ روہی کی جو ہار ہے اک جٹی ہاری ہے
سلطان بھلے سلطان جی میں نازک اور کمزور
سب ہار سنگھار کو بھول کے میں بھاگی تیری اور
میں بھاگی تجھ کو دیکھ کے مرے پاؤں آئی موچ
اک پتھر سے ٹکرا گئی اور ٹوٹ گئی ہر سوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم
ہم لوگ برہمن پریم کے اک مومن اپنا یار
ہم بدھا برگد بھوگتے ہم کعبے کے معمار
ہم پریم نگر کی خاک ہیں اور پانی زم زم کا
ہم طور پہ جلتی آگ ہیں اور بہکی تیز ہوا
ہم نوکر حسن حسین کے ہم مولا پر قربان
ہم چاکر پاک رسولﷺ کے صدیق عمر عثمان
ہم عین حقیقت دیکھتے ہم پہلے پہلے چار
ہم الا اللہ کا راز ہیں ہم دنیا کے سردار
تورات انجیل زبور ہیں ہر سانس میں ہیں قرآن
ہر ایک صحیفہ پریم ہے اور پریم خدا کی شان
ہم عارف ہیں اک ذات کے جس ذات میں سارے بھید
ہم قاری صورت یار کے کیا جنتر منتر وید
ہم پیر وراق کی گود میں کھیلے اور ہوئے جوان
ہم قادر کے ہیں قادری ہم خان محمد خان
ہم باھوؒ کے ہیں لاڈلے اور ھو ھو ہر دم جاپ
ہم اپنے مالک آپ ہیں ہم اپنے خادم آپ
ہم سینے سے بغداد ہیں اور چہرے سے لاھوت
ہم آنکھیں ہیں ھاھوت کی اور دیکھ رہے ناسوت
ہم چشت بہشت کے میزباں ہم پاک پتن کا گُڑ
ہم سارنگی کے تار ہیں ہم طبلے کا ہیں پُڑ
بغداد ہمارا جھنگ ہے بے داغ ہمارا رنگ
وہ یار ہمارے ساتھ ہے ہم جس کے سات ملنگ
ہم اپنے درشن آپ ہیں ہم اپنے پہرے دار
ہم فقر فنا کا بھید ہیں ہم ریشم ہم تلوار
ہم دوست ہیں جبرائیل کے اقبال ہمارا یار
ہم رام کا روپ سروپ ہیں نانک جی کی دستار
ہم خادم بھی مخدوم بھی ہم جٹ بھی اور سادات
ہم جاگیں تو دن جاگتا ہم سوئیں تو سوئے رات
ہم مست ازل کے مست ہیں ہر شجرے کا آغاز
ہم کلمہ روزہ آپ ہیں ہم حج زکوت نماز
۔۔۔۔۔
ہم کن سنتے ہی ہوگئے سنتے تھے یعنی تھے
ہم مست الست کے روز کے بس اُس کو دیکھ رہے
ہم ہونی کے اسباب ہیں اور جیون کا دستور
ہم جیتے گردن تان کے اور کہلاتے مغرور
ہم نفی بھی ہیں اثبات بھی ہم پتھر بھی اور خاک
ہم پاکوں میں ناپاک ہیں اور ناپاکوں میں پاک
ہم لاکھ کروڑ میں ایک ہیں اور ایک کے جان نثار
ہم تین سو تیرہ مست ہیں ہم دشمن پر تلوار
ہم بولیں جو بھی بول دیں وہ خود ہونے لگ جائے
سورج کی تابش خاک ہو اور چاند کھڑا گھبرائے
ہم وصل کے روزہ دار ہیں اور ہجر بھرے صدمات
ہم دن میں دیکھیں چاندنی اور سورج دیکھیں رات
ہم باغی باغ بہشت کے ہم دھرتی کے ہیں پیڑ
ہم سوئیں پریم کی آگ پر اور ناچیں ماس ادھیڑ
ہم تہمت کھاتے پریم کی اور پیتے شوق شراب
ہم بازی کھیلیں عشق کی اور ہاریں اپنے خواب
ہم اندر جنگل بار ہیں ہم اندر ہیں بازار
ہم کنجری بن کے ناچتے جوں رکھے سوہنا یار
۔۔۔۔۔
ہم شعر کہیں تجھ حسن پر اور گائیں درد ہزار
جب بھڑکے آتش عشق کی تو جلیں دوانہ وار
اک جانب شاہ حسین ہے اک جانب بھگت کبیر
اک جانب بلھا گونجتا اور وارث گائے ہیر
ہم گائیں ہجر کی راگنی اور کھیلیں دھول دھمال
ہم مٹی کے بازار میں ڈھونڈیں ہیرے اور لعل
ہم بھیرو ٹھاٹھ کے راگ ہیں ہم صبح کا مست الاپ
ہم لوگ کبوتر عشق کے اور ھو ھو ہر دم جاپ
۔۔۔۔۔
ہم سجدے میں سج دھج گئے اور ڈٹ کے کیا قیام
ہم ہند کے اتھرے جاٹ ہیں آقاﷺ کے خاص غلام
ہم چلتے پیر گھسیٹ کے ہم شین کو بولیں سین
ہم لوگ مسافر عشق کے ہم خاطر مرشد دین
ہم اپنے آپ کا آپ ہیں ہم فطرت کے اسرار
ہم لوگ سنہرے گندمی ہم داتا کے اوتار
ہم سنتے دیکھتے سونگھتے ہم چکھتے چھوتے لوگ
ہم راز ہیں اپنے راز کا اور جوگی کا ہیں جوگ
ہم پاپی خاکی خاک ہم نار بھی ہیں اور نور
ہم بوجھ اٹھائیں پریم کا ہم خلقت کے مزدور
ہم مٹی ماریں جسم کی اور پائیں دشت کی ریت
ہم گندم بوئیں پریم کی اور کاٹیں ہجر کے کھیت
وہ غائب غیب کے راز میں ہم حاضر اور حضور
وہ چھپا ہوا لاھوت میں ہم دنیا میں مشہور
ہم خادم اپنے پیر کے ہم کہلائیں سلطان
یہ جلوے کوئی اور ہیں تم سمجھے ہو انسان
ہم لوگ بڑے بے خوف ہیں لو تھام ہمارے ہاتھ
لج پال ہمارے ساتھ ہیں ہم لج پالوں کے ساتھ
ہم ظالم اپنے نفس پر مظلوم کی طاقت ہیں
ہم باغی دنیا دار ہیں دنیا پر حجت ہیں
ہم دم دم سائیں جاپتے اور دھم دھم کریں دھمال
ہم مستقبل میں بیٹھ کر ماضی میں رکھیں حال
ہم باہر ہیں اس کھیل سے اور دیکھ رہے ہیں کھیل
ہم اندر سارا کھیل ہے ہم اندر سارا میل
ہم مر کر زندہ ہوچکے اب جیون دان کریں
اک محسن کے ہم بالکے سب پر احسان کریں
۔۔۔۔۔
ہم مشرق مغرب کے نہیں اب بھول چکے طرفین
ہم عین اور غین سے ماورا بس دیکھ رہے دو نین
ہم لوگ الف کی خامشی ہم آنکھ سے کرتے بات
ہم صفتوں سے منہ پھیر کے اب دیکھ رہے ہیں ذات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم
تم مکتب کے مجبور ہو ہم پڑھے پڑھائے لوگ
تم بھوگو اپنی بھوگنی ہم جانیں اپنے سوگ
تم سات کو گنتی جانتے ہم سات کو جانیں ساتھ
تم پانچ جدا کر دیکھتے ہم پانچ کو مانیں ہاتھ
تم اسود پتھر چومتے ہم چومیں یار کا مکھ
تم آگ جلاؤ پیٹ کی ہم تاپیں اپنے دکھ
تم آنکھوں والے لوگ ہو ہم خواب کے اندر خواب
ہم پاپی کوڑھی عشق کے تم نیکی اور ثواب
تم دیکھو اپنی نیکیاں ہم دیکھیں اپنے پاپ
ہم حجت اپنی آنکھ پر ہم دیکھیں اپنا آپ
تم اونچا اونچا بولتے اور بولو کڑوے بول
بس کان ہمارے کھا گئے تم پھٹے پرانے ڈھول
تم ملاں صوفی بن گئے اور صوفی غیر صفا
تم پیٹ کے مارے شیخ ہو اور بیچو نام خدا
تم ٹخنوں کو ننگا کیے حوروں کو بیچ رہے
تم جنت کے تھے لالچی سو موت حرام مرے
تم مکے کے مکار ہو اور طائف کے بے کار
ہم یثرب کے ایوب ہیں ہم حبشہ کے سردار
ہم لوگ ستارا وار ہیں ہم چاند کے صحبت دار
تم آگ کو پوجو خوف میں ہم آگ کریں گلزار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں
میں کمی اپنے یار کا میں کاہے کا درویش
نا کپڑے کالے رنگ کے نا لمبے میرے کیش
نا عالم فاضل شخص ہوں جو مفتی کہلاؤں
نا سمجھا دنیا داریاں جو تجھ کو سمجھاؤں
نا صاحب ، صاحب زاد ہوں نا کوئی گدی نشین
نا بیچ سکا میں یار کو نا بیچا مذہب دین
نا حاجی مکے شہر کا نا باندھ سکا احرام
نا نفل نماز کا نیتی نا کوئی پیش امام
نا جوگی جنگل بار کا نا چلے کا بے کار
نا پانچ نمازیں پڑھ سکا نا بھوکا روزے دار
نا نعرہ مارا حیدری نا نیکی اور نا پاپ
نا لگن نہ کوئی لاگ ہے نا اونچے اونچے جاپ
نا مست کہ مستی خاص ہو نا میرا کوئی روپ
نا نام کمایا جا سکا نا عشق مرا بہروپ
نا صورت ایسی خاص ہے جو مڑ مڑ دیکھیں لوگ
نا مالا پہنی کاٹھ کی نا بھاگ نہ کوئی بھوگ
نا سنی سنائی مانتا نا بولی اپنی بات
نا ہجر کمایا یار کا نا وصل کی پائی رات
نا شعر بنایا کام کا نا شاعر اور حکیم
بس دوست ہوں اپنے دوست کا اور پایا نام ندیم
اس نام میں حرفِ م ہے خم دار الف جیسا
سرکار الف جیسا میرا دل دار الف جیسا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھید
یہ چھپے ہوئے کی بات ہے سو چھپ چھپ کر کی جائے
یہ راز نیاز ہیں عشق کے بے سمجھا سمجھ نہ پائے
یہ علم نہیں تدریس ہو یہ بات نہ کوئی بول
یہ بار نہیں اوزان کا جو کرے ترازو تول
یہ کفر نہ کوئی کافری مسلم نہ کوئی اسلام
یہ چار کتابوں میں نہیں کیا ملاں پنڈت رام
اک تخت سجا ہے حسن کا اور عشق ہے تخت نشین
اک خواہش ہے پہچان کی پہچانے کوئی حسین
یہ دو نینوں کا دور ہے اور آئینے کا تخت
یہ ایک لطیف کی بات ہے اور ایک کثیف کا بخت
ھو ھو میں ھامستور ہے اور ھا کی آنکھیں عین
عاشق کو دید سے کام ہے اور عاشق نین کے نین
وہ غیب الغیب کا کنت ہے ھاھویت میں کنزاً
یاھوت سنہری نور ہے لاھوت میں مخفیاً
فاردت جو ملکوت ہے پہچان کی خواہش کا
جبروت جہاں عرفان ہے جو کھیل ہے کوشش کا
ناسوت میں خلقت خلق کی پہچان مکمل ہو
کانوں کو آنکھیں بخش دیں انسان مکمل ہو
۔۔۔۔۔
شفاف بدن کا ذکر ہے اور پاک نظر کا کھیل
یہ موت سے پہلے موت ہے یہ صاحب کا ہے میل
بے چہرہ ، چہرہ اوڑھ کے ہوا اپنا عاشق آپ
اور خاک نے بازی جیت لی جب پایا عشق کا تاپ
یہ تاپ بہت انمول ہے اس تاپ میں کل اسرار
اس تاپ میں ہی انکار ہیں اس تاپ میں ہی اقرار
یہ درد دھوئیں کا تاپ ہے جسے تاپیں خاص الخاص
یہ آگ سنہری آگ ہے اس آگ کا ایندھن آس
یہ ادب آداب کا کھیل ہے بے ادبے ہیں ناکام
یہ خاموشی ہے عشق ہے دل سے دل کو پیغام
یہ ساری من کی حاضری پھر کیا اونچی آواز
یہ مالا ہے اک سانس کی کیا لکڑی کیسا ساز
آواز اذان کی تھی نہیں چھپ کر تھا میل ملاپ
یہ خاص طریقت عشق کی جو دنیا سمجھے پاپ
یہ بات نہ کوئی فلسفہ جو عقل شعور میں آئے
گونگے نے گڑ تو کھا لیا اب کھا کر کیا بتلائے
وہ دیکھو وہ ہے سامنے گر دیکھ سکو تو آؤ
وہ بیٹھا ہنستا بولتا اور لہجے میں ٹھہراؤ
اس وہ کی رمز عجیب ہے یہ وہ جب ہووے ھو
یہ ب سے الف کا وصل ہے ھو ھو سے ھو باھو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقیر
مرے سچے سائیں سوہنیا مری انگلی ٹوٹ گئی
مرا چاند کہیں پر کھو گیا مری تتلی روٹھ گئی
مرا ماتھا روشن ہوگیا ترے پاؤں پہ جب رکھا
میں پورا میٹھا ہوگیا ترے ہاتھ کو جب چکھا
مرا وجد وجود میں آگیا وجدان نے شعر کہے
مرا درد درود میں ڈھل گیا ایمان نے شعر کہے
میں شعر شعور کا روگ ہوں میں دھرتی کا ہوں سوگ
مری بانہیں نظمیں ہجر کی مری سانسیں راگ بہار
مرا ماتھا مطلع صبح کا مرے ابرو ہیں اشعار
میں بوٹی ہندوستان کی مرا عشق ہے تیرا جوگ
میں دھرتی کا ہوں لاڈلا مرے لاڈ اٹھائیں یار
مری آنکھیں صورت یار کی مری پلک پلک دیدار
میں جوگی سادھو پریت کا مرے کان میں بالا ہے
میں اندھا تیرے پریم میں تو دیکھنے والا ہے
میں بولی ہوں پنجاب کی تو میرا ڈھولا ہے
میں لفظوں میں وہ لفظ ہوں جسے تونے بولا ہے
میں آنے والا دور ہوں مرا حال گواہی ہے
میں جنگل کی وہ آگ ہوں جو تو نے لگائی ہے
۔۔۔۔۔
میں سانپوں سے ہوں کھیلتا اور زہر کا ہوں تریاق
میں گندھا گندھایا پریم میں مرا لہجہ ہے بے باک
میں نغمہ پاک و ہند کا آواز مدینے کی
مری موت ہوئی ہے عشق میں میں صورت جینے کی
میں راگ ہوں تیرے روگ کا مجھے گائیں خسرو جی
میں رقص ہوں تیرے ہجر کا مجھے ناچیں سب چشتی
ہمہ اوست ہے میری راگنی اور ھو ھو میرا راگ
وحدت ہے میرا آئینہ اور کثرت میرا بھاگ
میں الف الف کا بھید ہوں میں میم کا بوسہ ہوں
مجھ لب پر عشق کا ذائقہ عشاق کا اپنا ہوں
میں کروں خلافت یار کی میں بھید کا پہرے دار
تو عقل کا بہکا شخص ہے تجھ پر کھلنا بے کار
۔۔۔۔۔

