قبرستان کے گرد بنے بازار میں
مردہ لوگوں کو میں دیکھ رہا ہوں
دھول میں لپٹی چوپڑی روٹی
بھوک کا سالن
میٹھا اور نمکین زبان کو پورا ذائقہ بخش رہے ہیں
مٹی کے پیالے پانی کے زہر کو چوس رہے ہیں
شاہ حسین کا لنگر
مادھو لعل کے برتن
لنگر کھانے والے برتن دیکھ رہے ہیں
تن کے بر نے من کی بھوک مٹائی ہے
شاہ حسین نے رمز یہی سمجھائی ہے
اس چلتے بازار میں چل کر
جلتی ہوئی اک آگ میں جل کر
زیر زبر میں الجھا پیش ہوا ہے
مادھو کا درویش ہوا ہے
اور درویش پہ نقطہ بوجھ بنا ہے
نقطہ نطق ہوا
کلمے کا بھید کھلا
ل ا اور ھ میں نقطہ صوت بنا
آنکھوں والو دیکھ رہے ہو
شاہ حسین نے مادھو لعل کا برقع اوڑھا
نقطہ ختم کیا اور نکتہ کھولا
مردہ لوگوں کو میں دیکھ رہا ہوں
دھول میں لپٹی چوپڑی روٹی
بھوک کا سالن
میٹھا اور نمکین زبان کو پورا ذائقہ بخش رہے ہیں
مٹی کے پیالے پانی کے زہر کو چوس رہے ہیں
شاہ حسین کا لنگر
مادھو لعل کے برتن
لنگر کھانے والے برتن دیکھ رہے ہیں
تن کے بر نے من کی بھوک مٹائی ہے
شاہ حسین نے رمز یہی سمجھائی ہے
اس چلتے بازار میں چل کر
جلتی ہوئی اک آگ میں جل کر
زیر زبر میں الجھا پیش ہوا ہے
مادھو کا درویش ہوا ہے
اور درویش پہ نقطہ بوجھ بنا ہے
نقطہ نطق ہوا
کلمے کا بھید کھلا
ل ا اور ھ میں نقطہ صوت بنا
آنکھوں والو دیکھ رہے ہو
شاہ حسین نے مادھو لعل کا برقع اوڑھا
نقطہ ختم کیا اور نکتہ کھولا

