موتو قبل انت موتو

جوانی اس گلی کی دھول میں لپٹی ہوئی میں
چھوڑ آیا ہوں
وہ رشتے تور آیا ہوں جو زنجیروں کی صورت تھے
وہ گلیاں چھوڑ آیا ہوں جو منزل تک پہنچتی تھیں
نہ جانے کیوں
چراغِ آخرِ شب کی طرح بجھنے سے پہلے میں
بہت جلنے لگا ہوں
تھکا ہارا مسافر ہوں مگر پھر بھی
میں اپنی حیثیت سے تیز تر چلنے لگا ہوں
کہ اب کی بار جو منزل چُنی میں نے
وہ میرے وہم سے لے کر یقیں کی پُخگتی تک ہے
ہزاروں قہقہوں سے ہجر کی افسردگی تک ہے
مرے ہمزاد تُو کب جانتا ہے
کہ زندہ رہنے کی خاطر
بہت سی خواہشوں کے ساتھ دھوکہ کرنا پڑتا ہے
کبھی مرنے سے بھی پہلے اچانک مرنا پڑتا ہے