مثنوی مدینہ طیبہ

بارگاہِ حیات بسم اللہ
ائے مری شش جہات بسم اللہ
نور میں ڈوبی رات بسم اللہ
ائے مری کائنات بسم اللہ
خیمۂ جاں چراغ بسم اللہ
ائے کھجوروں کے باغ بسم اللہ
ائے عرب کے شعور بسم اللہ
اور عجوہ کھجور بسم اللہ
عزتِ جسم و جان بسم اللہ
ہاشمی خاندان بسم اللہ

پاک و طیب نسب سلام ودرود
رحمتوں کے سبب سلام ودرود
یا رسولِ خدا سلام ودرود
اے مرے ساقیا سلام ودرود

اے زبانِ عجم قدم بوسی
دل بہ دل دم بہ دم قدم بوسی
راز دارِ خدا قدم بوسی
سید الانبیا قدم بوسی
راحتِ عاشقیں قدم بوسی
اے کہ سب سے حسیں قدم بوسی

مرحبا حسن بانٹتا ہوا حُسن
مرشدا حسن بانٹتا ہوا حسن
چہرہ روحِ قدیم کا مظہر
ہاتھ اسمِ عظیم کا مظہر
مسکراہٹ کہ اشک تھم جائیں
رعب ایسا فرشتے گھبرائیں
خاک کو سرفراز کرتا بدن
نور کو جلوہ باز کرتا بدن

خوش لباسی کہ پھول شرمائیں
خوش خرامی کہ رستے بن جائیں
سنگ کو طور کرنے والے قدم
خاک کو نور کرنے والے قدم
قبلۂ عاشقاں رکوع وسجود
رہبرِ عارفاں رکوع وسجود

غم اتارے گئے ہیں سینے میں
میں پکارا گیا مدینے میں
دل مقامی سا لگ رہا ہے مجھے
عشق جامی سا لگ رہا ہے مجھے
دل بدست آیا ہے فقیر حضور
آپ کی زلف کا اسیر حضور
ہند سے اک غلام آیا ہے
ساتھ ٹھنڈی ہوائیں لایا ہے

ہوگئی حاضری مدینے میں
یعنی اب زندگی مدینے میں
لامکاں آبسا مدینے میں
آسماں جھک رہا مدینے میں
دیکھ لو جو دکھائی دیتا نہیں
اور سنو جو سنائی دیتا نہیں
شعر کہتی ہوئی فضاؤں کو
آؤ سن لو یہاں ہواؤں کو
چشم سے پھوٹتے ہوئے چشمے
خاک کو گوندھتے ہوئے چشمے
سبز سر سبز کرنے والا سبز
نور میں رنگ بھرنے والا سبز
جو تجلی وہاں پہ طور میں ہے
وہ تجلی یہاں کھجور میں ہے

صحنِ مسجد میں بھاگتی ہوئی روح
اپنی مستی میں ناچتی ہوئی روح
روح بچے کی طرح گھومتی ہے
اپنے آقا کے پاؤں چومتی ہے
بابِ جبریل کی طرف سوئے
کربلا کے دکھوں میں ہم کھوئے
بابِ جبریل وا ہوا پھر سے
دل حدیثوں سے بھرگیا پھر سے
پیاس اصغر کی مجھ کو یاد آئی
صفا مروا سے دشت میں لائی
باغ کا پھول پھول زندہ باد
خاندانِ رسول زندہ باد

شانِ جبل احد

ائے پنہ گاہِ مصطفےٰ ﷺ تجھے پیار
ائے پہاڑوں کے بادشہ تجھے پیار
وجد پر تیرے میں فدا اے پہاڑ
تو مرا حاصلِ دعا اےپہاڑ
رقص کی محفلیں جمائیں گے
ہند سے جب غلام آئیں گے
رقص ہیبت ہے اور حیرت ہے
رقص مولا علی کی سنت ہے
میرے آقا ﷺ کی تو محبت ہے
سو تجھے دیکھنا عبادت ہے
تیری طاقت امیر حمزہ ہیں
تیری عظمت امیر حمزہ ہیں
خوشبوؤں سے بھرا ہوا ہے تو
میرے آقا ﷺ کا لاڈلا ہے تو
پتھروں میں مقام تجھ کو ملا
یعنی اذنِ کلام تجھ کو ملا
غار سے نور کی طرف آیا
احد اور طور کی طرف آیا
اُحد ، احمد ، احد ، خدا جانے
راز کیا ہے وہ مصطفےٰ ﷺ جانے
میں ترے سائے میں رہا کئی دن
اور خدا سے یہاں ملا کئی دن
چاہتا ہوں کہ سنگ ہو جاؤں
گود میں تیری آ کے سو جاؤں
کتنا روشن ہے اور شتابی ہے
عشق کہتا ہے تو صحابی ہے
چوم کر تجھ کو مسکرایا میں
اک صحابی سے مل کے آیا میں