مسافتیں

تھکن سے اب جبینوں پر
پسینے کی جگہ بس خون رستا ہے
لہو جیسے رگوں کو چھوڑ کر
اشکوں میں دوڑے ہے
بدن میں کیسا ہنگامہ بپا ہے
تھکن آنکھوں میں کیوں ہے
کہاں جانا ہے ہم کو
ہماری منزلیں کیا ہیں
سنو تم بھی مسافر ہو
یہاں میں بھی مسافر ہوں
تو ہم کیسے مسافر ہیں
ہمارے ناک میں کس کی مشیت کی نکیلیں ہیں
کہ جن کی سب مہاریں اک ہوا کے ہاتھ میں ہیں
ہوا جو اپنے کانوں میں ہمیشہ سائیں سائیں رقص کرتی اور کہتی ہے
کہ ہم سب ڈھور ہیں
جن کے گلے میں ٹلیوں کا شور ہے
اور ایک چرواہا ہمیں بس ہانکتا جاتا ہے اور ہم چل رہے ہیں
یٰعنی ہم عیسٰی کی بھیڑیں ہیں
ہماری زندگی اک بوجھ کی مانند ہے
وہ بوجھ
جو ہم نے بدن کے اس کچاوے پر
ہمیشہ لاد کر چلتے ہی رہنا ہے
ہم اپنے پاس مرنے کا ہنر بھی تو نہیں رکھتے
ٹھہر جائیں کسی پل کوئی گھر بھی تو نہیں رکھتے
کہاں پر کون بچھڑا ہے خبر بھی تو نہیں رکھتے