ایک بے معنی مسافت کی تھکن پہنے ہوئے
قافلہ چلنے لگا ہے
پانیوں کے شور میں بھی رخت جاں کشتی کی صورت
تیرتا جاتا ہے
اب تو بادباں بھی پھٹ چکے
اک مسافت اور ہے
زندگی کی یہ مسافت میرے چہرے پر ذرا تحریر ہو
سو کوئی تدبیر ہو
میرے سورج اَب کبھی چھپنا نہیں
تاکہ اپنے سایے کو ہی روندنے کا یہ سفر جاری رہے
اور وجد بھی طاری رہے
زندگی سے جنگ بھی جاری رہے
زندگی کی جنگ میں مالِ غنیمت خواب ہیں
پر آج خوابوں سے نکل کر
میں حقیقت کے سمندر پر
دوانہ وار چلنے کے لیے تیار ہوں
میرے پیروں کو محبت کو تومت دھمال پہنا
پھر کہیں ایسا نہ ہو
اِن گھنگھرؤں کا شور سن کریہ سمندر جاگ اُٹھے
پاؤں سے سر تک مسافت طے ہوئی تھی
اورمیں دیوار سے لگ کر ابھی تک
اپنی قامت کا تعین کر رہا ہوں
آج خود سے ڈر رہا ہوں
آج میں چھپنے لگا ہوں
آمجھے تو ڈھونڈ اور بس ڈھونڈ ۔۔۔
قافلہ چلنے لگا ہے
پانیوں کے شور میں بھی رخت جاں کشتی کی صورت
تیرتا جاتا ہے
اب تو بادباں بھی پھٹ چکے
اک مسافت اور ہے
زندگی کی یہ مسافت میرے چہرے پر ذرا تحریر ہو
سو کوئی تدبیر ہو
میرے سورج اَب کبھی چھپنا نہیں
تاکہ اپنے سایے کو ہی روندنے کا یہ سفر جاری رہے
اور وجد بھی طاری رہے
زندگی سے جنگ بھی جاری رہے
زندگی کی جنگ میں مالِ غنیمت خواب ہیں
پر آج خوابوں سے نکل کر
میں حقیقت کے سمندر پر
دوانہ وار چلنے کے لیے تیار ہوں
میرے پیروں کو محبت کو تومت دھمال پہنا
پھر کہیں ایسا نہ ہو
اِن گھنگھرؤں کا شور سن کریہ سمندر جاگ اُٹھے
پاؤں سے سر تک مسافت طے ہوئی تھی
اورمیں دیوار سے لگ کر ابھی تک
اپنی قامت کا تعین کر رہا ہوں
آج خود سے ڈر رہا ہوں
آج میں چھپنے لگا ہوں
آمجھے تو ڈھونڈ اور بس ڈھونڈ ۔۔۔

