اگر آگ ہو تو
مری لکڑیوں سے ہی بھڑکو گے اک دن
اگر آب ہو تو
اِسی پُل کے نیچے سے گزرو گے اک دن
اگر تم ہوا ہو
تو مجھ پیڑ سے ہو کے اونچا اڑو گے
اگر خاک ہو تو
مرے ہی بدن میں سمائے رہو گے
مجھے چھوڑ کر تم کہاں جا بسو گے
کہ میں وہ اکائی ہوں
جس کی بدولت عناصر نے ترتیب پائی
کہ جس نے لطافت کثافت ملائی
میں وہ آنکھ ہوں
جس نے شیشے پہ پارہ چڑھایا
آئینہ بنایا
اگر تم کبھی خود کو دیکھو گے تو وہ مری آنکھ ہوگی
بھلی آنکھ ہوگی
کسی کو زمیں تو کسی کو یہاں آسماں دیکھنا ہے
تمہیں مجھ سے بہتر کسی نے بھلا اب کہاں دیکھنا ہے
مری لکڑیوں سے ہی بھڑکو گے اک دن
اگر آب ہو تو
اِسی پُل کے نیچے سے گزرو گے اک دن
اگر تم ہوا ہو
تو مجھ پیڑ سے ہو کے اونچا اڑو گے
اگر خاک ہو تو
مرے ہی بدن میں سمائے رہو گے
مجھے چھوڑ کر تم کہاں جا بسو گے
کہ میں وہ اکائی ہوں
جس کی بدولت عناصر نے ترتیب پائی
کہ جس نے لطافت کثافت ملائی
میں وہ آنکھ ہوں
جس نے شیشے پہ پارہ چڑھایا
آئینہ بنایا
اگر تم کبھی خود کو دیکھو گے تو وہ مری آنکھ ہوگی
بھلی آنکھ ہوگی
کسی کو زمیں تو کسی کو یہاں آسماں دیکھنا ہے
تمہیں مجھ سے بہتر کسی نے بھلا اب کہاں دیکھنا ہے

