عشق میں ہارے ہوئے جسم

تم نے دیکھی ہے کبھی عشق کے مست قلندر کی دھمال
درد کی لے میں پٹختا ہوا سر اور تڑپتا ہوا تن من
پیر پتھر پہ بھی پڑ جائیں تو دھول اٹھنے لگے
اور کسی دھیان میں لپٹا ہوا یہ ہجر زدہ جسم
رقص کرتا ہوا گر جائے کہیں
تو زمیں درد کی شدت سے تڑپنے لگ جائے
ہجر کی لمبی مسافت کا رِدھم گھوڑوں کی ٹاپوں میں گندھا ہے
رقص دراصل ریاضت ہے کسی ایسے سفر کی
جسے وہ کر نہیں پایا
تم نے دیکھے ہیں کبھی
شہر کے وسط میں گھڑیال کے روندے ہوئے پل
جن میں چاہت کے ہزاروں قصے
عشق کے سبز اجالے میں کئی زرد بدن
اپنے ہونے کی سزا کاٹ رہے ہیں
تم نے دیکھے نہیں شاید

مزید پڑھیں۔۔۔
Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha

شامِ غمِ حسین میں نامِ علی لیا گیا

خیمے جلا دیے گئے پھر یہ فضول بحث ہے
ایسے نہیں کیا گیا ویسے نہیں کیا گیا

حال

اے خدا تجھ میں کھو گیا تھا میں
لوگ کرتے رہے نماز ادا
اور مسجد میں سو گیا تھا میں

دیکھو اس کا ہجر نبھانا پڑتا ہے

سنتے کب ہیں لوگ ہمیں بس دیکھتے ہیں
چہرے کو آواز بنانا پڑتا ہے

شامِ غم کے سب سہارے ٹوٹ کر

اکـ تمہارا عشق زندہ رہ گیا
مر گئے ہم لوگـ سارے ٹوٹـ کر

ملنگ

ہاتھوں سے کشکول نے پوچھا
کتنے در باقی ہیں
اس بستی میں کتنے گھر باقی ہیں

یہ لوگ اس لیے مجھ کو گلے لگا رہے ہیں

ابھی تو رقص کا آغاز بھی نہیں ہوا ہے
ابھی ملنگ قدم سے قدم ملا رہے ہیں

راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتا

عشق اتنا بھی کیا ضروری ہے
کوئی بے عشق مر نہیں جاتا

نظر اٹھا کے مرے سامنے کھڑے ہو تم

یہ ٹہنیاں نہیں دیکھو تو میری بانہیں ہیں
اور ان سے پھول نہیں دوستو جھڑے ہو تم

خدا ملاتے ہیں ذوقِ خدائی دیتے ہیں

ہزار حیف وہ لشکر نہ سن سکا لیکن
حسین ہند میں اب تک سنائی دیتے ہیں

میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں

بخت ہوں اور مجھے ڈھونڈنے والے ہیں بہت
حسن ہوں اور حسیناؤں میں دیکھا گیا ہوں

دھرتی ولوں ( پنجابی )

اساں سِویاں لگے بانس ہاں تے اجڑے ہوئے شہر
کدی آ اساڈے کول وی تے ویکھ اساڈی لہر
کدی شاہ رگ ساڈی چھوڑ کے ساڈے دل دے اندر ٹھہر

شدید گریہ کا مطلب بتا رہا تھا ہمیں

ہم اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ کی طرف بھاگے
پتہ چلا کہ وہ رستہ دکھا رہا تھا ہمیں

شاعر

آخری جملہ بول دیا جائے تو بات مکمل ہو جاتی ہے
آنکھیں اشکوں سے بھر جاتی ہیں
اور سارے منظر دھندلے ہو جاتے ہیں

چھوٹے ہونے لگے بڑے میرے

باپ کے دشمنوں کی فتح ہوئی
بھائی آپس میں لڑ پڑے میرے

دکھا رہا ہوں تماشہ سمجھ میں آجائے

یہ لوگ جا تو رہے ہیں نئے زمانے میں
دعا کرو انہیں رستہ سمجھ میں آ جائے

ایمان

سہیلیوں نے کہا
دور فلسفے کا نہیں
دلوں میں بات نہیں صرف خون ہوتا ہے

 
محفلِ مشاعرہ

اپلاز ادب مشاعرہ، دبئی

ندیم بھابھہ کی شاعری صوفی ازم اور جدید رومانی اردو غزل اور نظم کا امتزاج ہے۔ انہوں نے اپنی مقبول ترین اور بہترین شاعری پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں HBL اور شرف ایکسچینج کے زیر اہتمام 7 ستمبر 2024 کو منعقدہ اپلاز ادب مشاعرہ میں پیش کی۔

فردیات

یار سے بجھڑے ہوئے ہجر کے مارے ہوئے لوگ
حوصلہ دیتے رہے حوصلہ ہارے ہوئے لوگ

تجھے بتاؤں مسافر! جنوں کے رستے میں
جہاں قیام ہُوا بس وہاں قیامت ہے

اپنی تنہائی کو دیکھا تو سمجھ میں آیا
قل ھو اللہ احد تیرے معانی کیا ہیں

میں اپنے آپ سے ہارا ہُوا ہُوں اور یہ لوگ
نہ جانے کیوں مجھے تسخیر کرنا چاہتے ہیں

زمیں کے آخری حصے پہ مَیں ٹھہرا ہُوا ہوں
تمہارے عشق میں جانے کہاں پہنچا ہُوا ہوں

مزید وڈیوز
کہے ندیم فقیر سائیں دا

کہے ندیم فقیر سائیں دا

اقبال کہہ گئے کہ علم کی انتہا حیرت ہے، عشق کی انتہا کیا ہے؟ اس بارے میں سوچنا ہی غالبا سادگی کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔ مجھ ایسے گنہگار ذرہ کم ترین کے نزدیک ایک لامتناہی خوف۔ لرز اٹھتا ہوں یہ سوچ کر کہ ندیم بھابھہ کی مسلسل پھیلتی انا اسے کہاں ہے جائے گی خاک کیا خاک بھر پائے گی اس بے پایاں شگاف کو، جس میں جتنی مٹی ڈالیں اس سے کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تو منہ میں جاہ و حشمت کا پیدائیشی چمچہ۔۔۔ اس پر طبیعت مائل بہ تلاشِ حق، مزید برآں انا کا حجم ایسا کہ اللہ کے سوا کس کو طاقت کہ اسے بھر پائے اور پھر ہاتھ میں شاعری کا فن۔ معاملہ نہ کسی رفیق کے ہاتھ میں، نہ کسی استاد کی قدرت میں اور نہ ہی ندیم کے اپنے بس میں، رحم کرے تو وہ جو رحیم اور کریم ہے۔

زیرِ نظر مجموعہ کا ایک بڑا حصہ ندیم کے شائع شدہ مجموعہ ہائے کلام پر مشتمل ہے سو ندیم کی شاعری کا حال میں یکجا ہونا قارئیں اور نقادوں کے لئے جو جو سہولت رکھتا ہے وہ اپنی جگہ لیکن اب تک کے کل کلام کی گواہی اس کی اپنی ذات اور معانی کے لیے از حد ضروری ہے۔

مزید پڑھیں
Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha Nadeem Bhabha